Mujhe pyar ka Badal krdo By Aan Fatima|Complete Novel|Best urdu novels 2023|html|

Novelslounge is a platform for social media writers.we have started a journey for Social media writers to publish thier content.
Mujhe pyar ka badal krdo,written by Aan Fatima,social romantic novel,village based czn marriage based,full of suspense and thrill and fun.

“لالہ آپ کو کچھ چاہیے کیا‍۔”
نورے اس کی گہری نگاہوں کے ارتکاز پہ گھبرا کر گویا ہوئی مگر وہ ہنوز اسے گھور رہا تھا۔ وہ اس کی عجیب سی نگاہوں سے گھبراتے خود پہ پھیلا ہوا ڈوپٹہ مزید درست کرنے لگی۔اس کی نگاہیں نورے کو اپنے اندر تک اترتی محسوس ہوئی۔حورے کا منہ دوسری جانب تھا تبھی وہ دیکھ نا پائی۔
“حورے جاؤ تمہیں چاچی سائیں بلارہی ہیں۔”
اس کی تحکم بھری بھاری آواز پہ حورے اثبات میں سر ہلاتے بھاگنے والے انداز میں باہر کی جانب بڑھی تھی۔اس کی اچانک بات پہ نورے کے حلق میں کانٹے سے چبھنے لگے۔اس نے خوفزدہ ہرنی کی مانند نگاہوں سے اسے اپنی جانب آتا دیکھا۔
“لالہ آپ۔”
اس سے پہلے کہ وہ ناسمجھی سے کچھ بولتی فرزام نے بروقت اس کے گلابی لبوں پہ اپنی بھاری انگلی رکھتے پرشوق نگاہوں سے اس کی جانب دیکھا جس کی سانولی رنگت میں سرخیاں سی گھل گئی تھی۔
“شش!آج سے نو مور فرزام لالہ نورے۔صرف فرزام سائیں۔”
وہ ذومعنی انداز میں بولتے اسے بہت کچھ جتاگیا۔نورے کا دل کسی پتے کی مانند لزرنے لگا۔سپید پڑتے چہرے سمیت اس کی آنکھیں اس کی بات پہ پھٹی کی پھٹی رہ گئی۔
“آپ یہ مجھ سے کیسی باتیں کررہے ہیں۔آج سے پہلے تو کبھی ایسا نہیں ہوا۔”
وہ تڑپ کر بھیگے لہجے میں بولی تو اس کی آنکھوں کا بھیگا پن دیکھتے وہ ہولے سے مسکرایا۔وہ اس سے خوفزدہ تھی اور یہی چیز اسے لطف میں مبتلا کررہی تھی۔وہ دو قدم مزید آگے بڑھتے رہا سہا فاصلہ بھی سمیٹ گیا۔نورے کی آنکھوں کے سامنے بےساختہ اندھیرا سا چھایا۔
“کیونکہ آج سے پہلے میں نے تمہارے بارے میں ایسا کبھی سوچا نہیں تھا اب جب سوچ رہا ہوں تو تمہیں ٹوک دیا اسی لیے خاموشی سے یہ ٹسوے بہانا بند کرو اور اپنے پیارے پیارے ہاتھوں سے میرے لیے جلدی سے پراٹھا بناؤ بلکل اس دن جیسا۔”

وہ اس کے گال پہ گرنے والا آنسو پونچھتے مزے سے بولتے اس سے فاصلہ قائم کرگیا کیونکہ اب وہ بری طرح رونے میں مصروف تھی۔
“میں سب کو بتادوں گی کہ فرزام لا۔”
وہ غصے سے پھولی ناک سمیت روتے ہوئے دھیمے لہجے میں چیخی مگر اس کی سرد نگاہیں خود پہ محسوس کر وہ اندر تک سہمتے اپنے لبوں کو آپس میں باہم ملاگئی۔فرزام اس کے یوں خوفزدہ ہونے پہ داد دیتی نگاہوں سے اسے دیکھتے دلکشی سے مسکرایا۔
“لوگ دیدارِ یار مانگتے ہیں محبت میں مگر ہم دیدارِ یار کے ساتھ اس کے نرم ہاتھوں سے بنا کھانا بھی مانگتے ہیں وہ کیا ہے نا اسی چیز نے ہی تو ہمارا دل چڑایا ہے۔اب دل چڑانے کی سزا یہی ہے کہ آپ مابدولت کی زندگی میں ہمیشہ کیلیے شامل ہوتے ہمیں لذیذ کھانوں سے روشناس کرائیے۔”
وہ اس کے ہاتھوں کو نگاہوں کے فوکس میں لیتا گہرے لہجے میں بولتے اس کو حلق تر کرنے پہ مجبور کرگیا۔اس نے اپنی انگلیاں بےدردی سے چٹخائی اور خشک پڑتے لبوں کو تر کرنے لگی۔
“مگر میرا ہاتھ جلا ہوا ہے۔”
وہ جان چھڑانے والے انداز میں بولی۔فرزام جو باہر کی جانب بڑھ رہا تھا چونک کر اس کی جانب متوجہ ہوا اور بھاری قدم اٹھاتے اس تک پہنچا۔
“تمہارے ہاتھ میرے لیے کبھی بھی جلے نہیں ہونے چاہیے نورے۔میں جب کہوں جس وقت کہوں کھانا مجھے چاہیے وہ بھی وقت پہ۔”
وہ اس کا ہاتھ نرمی سے تھام کر اس کے زخم کا معائنہ کرتے ہوئے بولا جو اب کافی حد تک بہتر تھا۔

یو ایڈیٹ۔یو شوٹ ہم بٹ وائے۔
وہ آنکھوں میں ناگواری لیے حلق کے بل دھاڑی۔ڈرائیور نے اس کی بات پہ ہنوز چہرہ جھکایا ہوا تھا۔
میڈیم جی سر نے مجھے حکم دیا تھا کہ اگر کسی کی بری نگاہ ان کی بیٹی پہ ہو تو مجھے یہ پورا حق حاصل ہے کہ میں اسے موقع پہ ہی شوٹ کردو۔
وہ مدھم لہجے میں پختگی لیے بولا۔رنم ایک لمحے کیلیے خاموش رہ گئی اور جانچتی نگاہوں سے اس کی جانب دیکھا۔
مگر وہ مجھے دیکھ نہیں رہا تھا جاہل انسان۔ایسے اتنی سی بات پہ کون کسی کو مارتا ہے۔
اسے یہ بات قطعی ہضم نہیں ہورہی تھی کہ ایسا اس سے اس کے بابا کہ سکتے ہیں تبھی کاٹ دار لہجے میں بولی۔
میڈیم جی برا مت مانیے گا مگر سر نے مجھے یہ بھی کہا تھا کہ اگر آپ ذیادہ بولیں تو میں آپ کو بھی شوٹ کردوں۔
وہ اپنی جیب سے پستول نکالتے اس کی جانب تانتے ہوئے سخت لہجے میں بولا۔رنم کی آنکھیں اس کی جرأت پہ آخری حد تک پھیل گئی۔اس سے پہلے کہ وہ اشتعال کے عالم میں اس کا پستول والا ہاتھ جھٹکتی اس سے پہلے ہی وہ مہارت سے اپنی جیب میں پستول ڈالتے گاڑی کی اگلی سیٹ کی جانب بڑھ گیا۔رنم نے اس کے دو کوڑی کے ایٹیٹیوڈ پہ مٹھیاں بھینچی تھی اور ایک نگاہ ابھی بھی زمین پہ گرے وجود پہ ڈالی جو ہنوز بازو پہ سختی سے ہاتھ رکھتے اسے ہی گھور رہا تھا۔وہ ایک تنفر بھری نگاہ اس شخص پہ ڈالتی گاڑی کا دروازہ کھول کر بیٹھ گئی ویسے بھی صبح صبح اس ہنگامے پہ اس کی جان جارہی تھی۔
اے سنو تمہارا نام کیا ہے۔
گاڑی کا دروازہ زور سے بند کرتے اس نے رعونت ذدہ لہجے میں ڈرائیور کو مخاطب کیا۔
ایم سوری مگر میں غیر شناسا لوگوں کو اپنا نام بتانا پسند نہیں کرتا۔
وہ پتھریلے لہجے میں بولتے گاڑی ایک جھٹکے سے جامعہ کی جانب بڑھاگیا۔رنم نے اس کے طرزِ مخاطب پہ اہانت کے احساس سے سرخ پڑتے مٹھیاں بھینچی تھی
Mjhe-pyar-ka-badal-krdo-by-Aan-Fatima-Complete-novel-best-urdu-novel-2023-html

1 thought on “Mujhe pyar ka Badal krdo By Aan Fatima|Complete Novel|Best urdu novels 2023|html|”

Leave a Reply to Sitar jabeen Cancel Reply

Your email address will not be published.