Tou Jo Mil Jaye by Ana Illiyas Complete Urdu Novels 2023 html

Novel’s lounge is a platform for social media writers. We have started a journey for social media writers to publish their content.

“حيرت ہے آپ بہت بڑی خوش فہمی ميں مبتلا ہيں” اس نے استہزائيہ انداز ميں اسکے حسين روپ کی جانب سے نظر چراتے ہوۓ کہا۔ ساتھ ساتھ کلہ اور پھر شيروانی اتاری۔

وہيبہ کی تو جان جل کر رہ گئ۔ اس نے خود کو نہايت بے وقوف تصور کيا۔

تيزی سے بيڈ سے اٹھی اور ڈريسنگ روم کی جانب بڑھنے لگی کہ کلائ پاس کھڑے خبيب کے ہاتھ ميں آگئ۔

“کيا سوچ کر نکاح نامے پر دستخط کئيے تھے۔” اسکے طنزيہ لہجے ميں پوچھے جانے والے سوال نے وہيبہ ميں وہی روح بھر دی جو پہلے خبيب کو ديکھ کر جاگتی تھی۔

“يہی سوال ميں آپ سے پوچھنا چاہوں گی۔۔۔مجھ جيسی بے باک لڑکی جسے آپ نوکرانی بنانا توہين سمجھتے تھے اس سے نکاح کے لیے کيوں آمادہ ہوۓ۔” وہيبہ نے بے خوفی سے کہا۔

“مجبوری۔۔کسی کے مان بھرے لہجے کی مجبوری”

“يہاں بھی معاملہ مجبوری کا ہی ہے کسی درندہ صفت انسان سے بچنے کی آخری صورت يہی نظر آئ تھی” اس نے بھی بے لچک لہجے ميں کہا۔

“محبت ميں بے اعتباری کی کوئ گنجائش نہيں ہوتی وہيبہ” خبيب نے اسکی جھکی پلکوں کو ديکھ کر کہا۔

“ميں نے تو ابھی محبت کا اقرار ہی نہيں کيا” وہيبہ نے ہونٹ کاٹتے ہوۓ کہا۔ اسکی قربت وہيبہ کو گھبراہٹ ميں مبتلا کر رہی تھی۔

خبيب تو اب اسکی ايک ايک جنبش سے اسکے دل کا حال جاننے لگ گيا تھا۔ لہذا آہستگی سے اپنے بازو اسکے گرد سے ہٹاۓ اور اس کا رخ اپنی جانب کيا۔

“انکار بھی کب کيا ہے” خبيب کی مسکراہٹ گہری ہوئ۔

“ہاں۔۔۔اصل ميں ابھی سمجھ ہی نہيں آ رہی کہ محبت ہوتی کيسے ہے۔۔۔بس اتنا جانتی ہوں کہ آپ بہت اچھے لگتے ہيں۔۔۔۔جب وہ تکليف دہ خبر سنی اور آپکے ہوش ميں آنے سے پہلے وہ چند گھنٹے مجھے ہر گزرتے پل کے ساتھ ايسا لگ رہا تھا کہ کچھ بھی غلط سنا تو ميری سانسيں بھی بند ہو جائيں گی۔

گھٹن تھی کہ بڑھتی جا رہی تھی۔ ميں نہيں جانتی يہ محبت ہے يا کيا ہاں مگر آپکے بغير رہنا اب ميرے بس ميں نہيں”وہ ںظريں نيچے کئيۓ اپنے دل کی کيفيت بتاتی خبيب کو اتنی پياری لگی کہ اس نے فوراًنظر ہٹا لی۔ اسے شک گزرا کہيں اسکی ہی نظر وہيبہ کو نہ لگ جاۓ۔

“يہ سب محبت کے ہی آثار ہيں ڈئير۔۔۔۔ويسے مجھ جيسا گجر اتنا پيارا کيسے لگنے لگ گيا۔ جس کی گھنی داڑھی اور مونچھيں آپکو زہر لگتی تھيں” خبيب نے اسے پھر سے اپنی نظروں کے حصار ميں ليا۔ نظريں اس پر سے ہٹنے کو آمادہ نہيں ہو رہيں تھيں۔

“وہ تو کزنشپ غصہ تھا نا۔۔۔اب آپکا يہی روپ سب سے پيارا لگتا ہے” اس کی نرم نظروں نے خبيب کی داڑھی کو پيار سے ديکھتے ہوۓ کہا اور وہيں سے واپس ہو گئيں۔ اس سے آگئےاسکی آنکھوں ميں ديکھنے کی اس ميں ہمت نہيں تھی۔

“اوۓ ہوۓ۔۔۔۔۔آج تو دل کی باتيں شئير کی جا رہی ہيں۔ لگتا ہے آپ چاہتی ہيں ميں ابھی مزيد کچھ دن آفس نہ جاؤں” خبيب کی بات پر وہ ہنس پڑی۔

Tou Jo Mil Jaye by Ana Illiyas

Leave a Comment

Your email address will not be published.