uttran by effat saher pasha download complete novel html

Novelslounge is a platform for social media writers.we have started a journey for Social media writers to publish thier content.

“آپ کو میں نظر نہیں آتی؟”
اس نے عمر کے ہاتھوں کو سست پڑتے دیکھا۔اس نے نظر اٹھا کر لمحہ بھر کو زینی کی طرف دیکھا اور اٹھ کھڑا ہوا۔اپنے شوز اتار کر ریک میں رکھتے وہ سلیپرز پہننے لگا۔اب وہ زینی کے بالمقابل تھا۔
“میں حقیقت سے نظریں چرانے والوں میں سے بلکل نہیں ہوں اور کون ہے یہاں جو نظر آئے گا۔”
عمر کے لہجے میں ایک سلگتی ہوئی کیفیت تھی۔
“مجھے کسی نے تایا ابا کے بارے میں کیوں نہیں بتایا۔میں وہاں جاتی ان کا حال پوچھنے۔”زینی نے احتجاج کیا۔
“مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ان لوگوں نے ہی منع کردیا تھا وہاں آنے سے۔اب حال پوچھ لو تم بھی۔”
“مگر مجھے بتاتے تو۔۔۔”
“اب بتادیا نا۔”وہ یکلخت ہی سرد لہجے میں بولا۔
“میں یہاں اپنی مرضی سے نہیں آئی ہوں۔”
زینی نے اسے جتایا۔کمال ہے میری قربانی اسے دکھائی ہی نہیں دیتی۔اب پتا نہیں اس کی بات میں کیسا اثر تھا۔وہ رکا ہی نہیں بلکہ پلٹ کر اس تک واپس بھی آیا۔
“جانتا ہوں بےفکر رہو تم۔جو تمہاری مرضی ہے وہی کرنا۔مجھے بار بار جتانا مت۔”
سرد لہجہ۔سپاٹ انداز۔
وہ واشروم جاچکا تھا۔زینی جھرجھری سی لے کر بیدار ہوئی اس نے کلس کر سوچا۔
“ان لوگوں کو تو بس نوکرانی چاہیے گھر کیلیے اور وہ مل گئی۔عافیہ آتی تو تنکا نہ توڑتی۔”وہ امی اور عمر سے برگشتہ ہونے لگی۔

uttran by effat saher pasha

Leave a Comment

Your email address will not be published.