yeh muhabbat bhi ajeeb hoti he by bisma Naz complete urdu novel 2013 html

Novelslounge is a platform for social media writers.we have started a journey for Social media writers to publish thier content.

“تمہیں پتہ ہے عرج عالیہ کو سجنے سنورنے کا بہت شوق تھا۔”زیان نے عرج کی چوڑیاں اتارتے ہوئے کھوئے کھوئے انداز میں بتایا۔عرج نے کچھ چونک کر زیان کو دیکھا۔اس وقت عالیہ کا ذکر پھر خاموش رہنا ہی بہتر سمجھا۔
“میں کبھی بھی عالیہ کو کھونا نہیں چاہتا تھا عرج۔ہم دونوں ایک ساتھ بہت خوش تھے۔ہم نے کتنے سارے خواب دیکھے تھے۔اس کا بولنا اس کا ہنسنا مسکرانا اس کی بچگانہ حرکتیں سب بہت پسند تھی۔تمہیں پتہ ہے اسے کبھی بھی میرے ہاتھ پہ سر رکھے بنا نیند نہیں آتی تھی۔”زیان اپنی دھن میں بول رہا تھا۔اس سب سے بےخبر کہ سامنے بیٹھی عرج کے دل میں کیا گزر رہی تھی۔
عرج نے آنکھوں میں آئی نمی کو اندر اتارا اور زیان کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑوا کر بچی ہوئی چوڑیوں کو ایک جھٹکے سے اتارتے ہوئے کہا۔
“یہ سب آپ مجھے کیوں بتارہے ہیں۔”آج سے پہلے زیان کبھی بھی عرج کو عالیہ کو بتاتا تو وہ بہت شوق اور دھیان سے سنتی تھی مگر آج پہلی بار اسے عالیہ کا ذکر ناگوار گزرا تھا۔آج پہلی بار اس نے عالیہ سے جیلسی محسوس کی۔زیان نے مسکراتے ہوئے عرج کو دیکھا وہ یہی تو چاہتا تھا کہ عرج عالیہ سے جیلسی فیل کرے تاکہ اسے یقین ہوجائے کہ وہ اس سے محبت کرتی ہے۔زیان نے مسکراتے ہوئے ایک بار پھر اس کا ہاتھ تھام لیا اور آئیوڈیکس نکال کر اس کے ہاتھ پہ لگائی جہاں سے چوڑی چبھنے کی بدولت خون کے ننھے منھے قطرے نمودار ہوئے تھے۔
“جلن ہورہی ہے۔”زیان نے معنی خیز انداز میں عرج سے پوچھا۔
“بہت زیادہ۔”عرج نے فوراً جواب دیا مگر دوسرے ہی لمحے زیان کے چہرے پہ مسکراہٹ دیکھ شرمندہ سی ہوگئی۔
“ہاتھ میں۔”
“تو میں کب کہ رہا ہوں کہ دل میں۔”زیان نے معنی خیزی سے جھک کر کہا۔

yeh muhabbat bhi ajeeb hoti he by bisma Naz

Leave a Comment

Your email address will not be published.