Muhabbat rang de jati he by Aan Fatima|part 2|best urdu novels 2022|

Novelslounge is a platform for social media writers.we have started a journey for Social media writers to publish thier content.
Muhabbat rang de jati he,written by Aan Fatima,social romantic novel,full of suspense and thrill and fun.

“یااللہ اب کیا ہوگا ارتضی مجھے اپنے حواسوں میں نہیں لگ رہا۔”
پریسہ نے گھبرا کر ان دونوں کی جانب دیکھا جن کی حالت خود بھی پتلی ہورہی تھی۔
“ہاتھ چھوڑو میرا میں نے کہا ہاتھ چھوڑو میرا میں تمہارا حشر بگاڑ دوں گی۔”
وہ اسے خود سے دور دھکا دیتے بری طرح چلائی۔اس وقت وہ دونوں اس کیفے کے پارکنگ ایریا میں موجود تھے جہاں کسی کا بھی نام و نشان تک نہیں تھا بقول ارتضی کے کیونکہ وہ تینوں دیوار کی اوٹ میں چھپی اس منظر سے پوری طرح لطف اندوز ہورہی تھی۔
“تمہیں کیا لگا تم میرے علاوہ کسی کو دیکھوں گی کسی سے ملو گی کسی کو سوچو گی تو مجھے معلوم نہیں پڑے گا تو یہ تمہاری بھول ہے کیونکہ یہ بات شاید تم فراموش کرچکی ہو کہ تمہاری سوچوں پہ تم سے ذیادہ میں قابض ہو۔اسی لیے مجھے دھوکا دینے کی جرأت بھی مت کرنا کیونکہ جب میں دھوکا دینے پہ آیا تو تم پہ سانس سانس تنگ کردوں گا۔ایسی اذیت سے روشناس کرواؤں گا جس اذیت کو سہنا تو دور سوچنے کی بھی تم میں ہمت نہیں ہوگی۔”
وہ اس کے کان کے نزدیک جھکتے سرگوشی کی کیفیت میں کھردرے لہجے میں پھنکارا۔عناب کے وجود میں خوف کی لہریں دوڑ گئی۔اس نے ایک جھٹکے سے اسے خود سے علیحدہ کیا تھا۔


“میں تمہیں دھوکا دے رہی ہوں میں تم ہوتے کون ہو اس بات کا فیصلہ کرنے والے۔دھوکا میں نہیں تم دے رہے ہو مجھے اس شزا سے شادی رچا کر۔جب تمہارے ماں باپ اس رشتے پہ رضامند نہیں ہوسکتے تھے تو ان کی پشت پہ یہ رنگ رلیاں۔جانتی ہوں ہم مڈل کلاس لوگوں کیلیے تم جیسے امیر لوگ نہیں ہوتے مگر ہم پاگل ہیں جو یہ خواب سینچ لیتی ہے کسی کی پیار بھری ایک نظر پہ قربان چلی جاتی ہے۔پاگل ہیں ہم لڑکیاں۔”
اس سے پہلے کہ وہ بدتمیزی کی تمام حدیں پھلانگتی ارتضی کی سردنگاہیں خود پہ محسوس کر وہ ناچاہتے ہوئے بھی لب بھینچ گئی تھی۔آنکھوں میں ناچاہتے ہوئے بھی نمی سی تیر گئی تھی۔ارتضی نے اسے دیوار سے لگاتے اس کے دونوں اطراف پہ ہاتھ جماتے برفیلی نگاہیں اس کی آنکھوں میں گاڑھی تو اس کے حلق میں گلٹی ابھر کر معدوم ہوئی۔
“تم امیر ہو یا غریب تم خوبصورت ہو یا بدشکل منسلک تو تم میری ہی ذات سے ہوگی۔ماں باپ نہیں مانے تو کیا ہوا جس کی تم نے ہونا ہے وہ تو راضی ہے نا۔”
وہ جتانے والے لہجے میں بولتے اسے بےتحاشہ ٹھٹکاگیا۔اس نے بھیگی نگاہیں اس کی آنکھوں میں گاڑھی تو اس کی آنکھیں مسکرارہی تھی۔
“نہیں راضی کوئی نہیں راضی کیونکہ اب مجھے بھی شوق نہیں رہا تمہارا بھول چکی ہوں میں تمہیں۔”
وہ سر جھٹکتے ہوئے نفرت بھرے لہجے میں بولی۔ارتضی نے اس کی ٹھوڑی کو سختی سے اپنی گرفت میں لیتے چہرہ اوپر اٹھایا۔
“خود کو بھولنے کا حق بھی میں تمہیں نہیں سونپتا عناب احمد اور ایک اور بات آئندہ ان لبوں سے میرا نام صرف محبت سے ادا ہونا چاہیے نفرت سے نہیں۔مجھے پرانا وحشی بدتمیز اکھڑمزاج ارتضی بننے پہ مجبور مت کرو۔”


وہ سفاکی سے بولتے عناب کو حیرت میں غرق کرگیا۔اس نے خشک لبوں پہ زبان پھیرتے خاموشی سے نگاہوں کا زاویہ۔بدل لیا۔
“تم پاگل ہو ارتضی بہت بڑے پاگل ہو تم۔”
وہ تمسخرانہ لہجے میں بولتی اس سے پہلے کہ اس کے حصار سے نکلتی ارتضی نے سختی سے اسے اپنے حصار میں مقید کیا تھا۔اس کے ہاتھوں کو ایک بار پھر اپنے اطراف میں دیکھ وہ بےبسی سے آنکھیں میچ گئی۔
“ہاں میں پاگل ہوں مگر صرف عناب کیلیے۔میں جنونی ہوں صرف اس سرپھری لڑکی کیلیے۔میں دیوانگی کی حد تک صرف ارتضی کی عناب کو چاہتا ہوں۔”
وہ مسکراتے لہجے میں بولا تو عناب کا دل دھک سے رہ گیا۔

muhabbat_rang_de_jati_he_by_Aan_fatima_part_2_best_urdu_novels_2022

Leave a Comment

Your email address will not be published.