Chirag e Shaam se Pehle by Huma Waqas complete Urdu novel 2023 html

Novel’s lounge is a platform for social media writers. We have started a journey for social media writers to publish their content.

” رمنا آپا کو کیوں دھکا دیا تھا چھت سے ۔۔۔۔ ؟ “
وہ دونوں ہاتھوں کی مٹھایاں بھینچے پلنگ سے اٹھ کر چیخ اٹھی ، اور وہ ہونق بنا اس کی بات سے زیادہ اس کے انداز پر ششدر تھا ۔
” آپ نے میری رمنا آپا کو چھت سے دھکا دیا تھا وہ گری نہیں تھی “
مالا نے چیخ کر انگلی کا اشارہ تقی کی طرف کیا جو اب اس کے انداز سے اس کے کہے گۓ جملے پر الجھ گیا تھا ۔
”کیا ؟ ۔۔۔۔کیا ۔۔۔ بکواس کر رہی ہو ؟ دماغ ٹھیک ہے “
تقی نے حیرت میں غرق لہجے میں پوچھا ، آواز متحوش ہونے کی وجہ سے بہت پھیکی تھی ، آڑی ترچھی ہوتی بھنوں کے نیچے سیاہ آنکھیں پوری کھلی تھیں ، ابھی تک اس کے انداز کی حیرت ختم نہیں ہوٸ تھی کہ اس کے جملے پر وہ الجھا سا اُٹھ کر کھڑا ہو گیا ۔
” بکواس نہیں کر رہی ہوں سب جان گٸ ہوں میں ، اللہ تعالی نے سب بتا دیا مجھے کہ مجھے وہ خواب کیوں آتے تھے “
مالا آنسو سے رندھاٸ بھاری آواز میں ہاتھ کھڑا کیے کہتی ہوٸ پلٹی اور پھر تیز تیز چار قدم اُٹھاتی لکڑی کی دیوار میں نصب الماری تک پہنچی ، جھٹکے سے الماری کا پٹ کھولا اور قمیض کو مٹھی میں دبوچ کر پلٹی ، تقی کے سامنے جا کر ایک جھٹکے سے قمیض کو کھولا
” یہ آپکی کی قمیض ہے ؟ “
تن کر سوال کیا ، اب سب بول ہی دیا تھا تو ہمت بھی تو دکھانی تھی ، آخر کو تقی ہے بتا سکتا تھا کہ رمنا آپا کی روح کو سکون کیوں نہیں اتنے سال گزر جانے کے بعد بھی ، وہ کیوں مالا ہی کو تقی کی سچاٸ سے آگاہ کر رہی ہے ، تقی نے قمیض پر نگاہ جماٸ اور آنکھیں سکیڑ کر تیوری چڑھاٸ
” پہچانیں یہ وہ قمیض ہے جو فرزانہ آپا نے آپ کو ان کی شادی سے پہلے کاڑھ کر تحفہ میں دی تھی “
مالا نے قمیض کو ہاتھ میں پکڑے ہوا میں جھلایا تقی نے اسی طرح متحیر انداز میں ہاتھ بڑھا کر قمیض کو تھاما بغور قمیض کو دیکھتے ہوۓ اس کی پھٹی جیب کو اٹھا کر سیدھا کیا ۔

Chirag e Shaam se Pehle by Huma Waqas

Leave a Comment

Your email address will not be published.