Khusboo ki zuban by nisha malik Download complete urdu novel 2024 html

Novelslounge is a platform for social media writers.we have started a journey for Social media writers to publish thier content.

“مجھے نہیں معلوم تھا کہ اپ اتنی جلدی اپنے سوتیلے پن پر اتر ائیں گی۔” لہجہ نہایت سخت تھا۔
“کیا مطلب۔”میری سمجھ میں کچھ نہیں ایا تھا۔
“آپ دن بھر فارغ ہوتی ہے کم از کم بچوں کے کپڑے ہی تبدیل کر دیا کریں معلوم ہے کتنے دنوں سے وہ سکول نہیں گئے اج اگر ان کی پرنسپل کا فون نہ اتا تو میں تو بے خبر ہی رہتا۔”میں چپ رہی ہے واقعی میری کوتاہی تھی۔
“طچے سارا وقت انٹی کے پاس ہوتے ہیں میرے پاس تو کم ہی اتے ہیں۔”میں نے وضاحت کی کوشش کی لیکن اس وضاحت کو انٹی کی دھاڑ نے مکمل نہیں ہونے دیا۔
“میں تمہاری انٹی نہیں ہوں اور عمر میں تو تم سے کچھ ہی چھوٹی ہوں گی۔” تفاخر سے کہا گیا۔
“چھوٹی تو نہیں البتہ جھوٹی ضرور ہے۔” میں نے دل میں سوچا۔
“ہائے کشف کس قدر خیال رکھتی تھی بچوں کا ان کی حالت دیکھ کر تو میرا دل کٹتا ہے۔میرا تو دل ہی نہیں چاہتا ان کو یہاں پر چھوڑ جانے کو پتہ نہیں سوتیلی ماں کیا کیا ظلم کرتی ہوگی۔ چلی تو جاتی ہوں مگر دل انہی کی طرف لگا رہتا ہے۔دن میں کئی کئی مرتبہ فون کرتی ہوں۔”کمال کی اداکاری کی جا رہی تھی۔
زرگام نے غصے میں پلیٹ فرش پر پھینک دی۔
“ممیں نے امی سے پہلے ہی کہا تھا کہ مجھے ایسی شادی کی کوئی ضرورت نہیں ہے جس نے میرے بچوں کا حال پہلے سے ہی زیادہ خراب ہو جائے۔ ثمرانہ اگر آپ نہ ہوتی تو پتہ نہیں میرے بچوں کا کیا حال ہوتا۔”وہ غصے سے پن کاٹتے ہوئے کھانا چھوڑ کر چلے گئے آنٹی مسکراتی نظروں سے مجھے دیکھ رہی تھی اور میں طہماس کی طرف متوجہ تھی۔ اس کا خیال تھا کہ پاپا کا غصہ میں ان پر اتاروں گی کیونکہ ان کی وجہ سے مجھے جھاڑ پڑی تھی لیکن میں اس سے کچھ نہیں کہنا چاہتی تھی میں اسے کھونا نہیں چاہتی تھی۔اور سچ تو یہ ہے کہ وہ دونوں اتنے میلے اور مرجھائے ہوئے نظر ارہے تھے میرا دل کسی نے مٹھی میں لے لیا۔واقعی اگر ان کی اصل ماں ہوتی تو کیا وہ اتنے پیارے بچوں کو یوں اپنے سے خفا پھرنے دیتی۔

Leave a Comment

Your email address will not be published.