Mere Hakim by Umaima Mukarram Complete Urdu Romantic Novel

Novel’s lounge is a platform for social media writers. We have started a journey for Social media writers to publish their content.

” کیا کیا ہے میں نے تمہارے ساتھ ایسا۔ ؟ کبھی ہاتھ اٹھایا ہے مارا ہے یا ٹورچر کیا ہے جو مجھ سے اتنا ڈرتی ہو۔ ؟ “
خنساء کو بازو سے پکڑے وہ دھاڑا۔۔ خنساء سکتے میں نظریں جھکائے کھڑی تھی چہرہ آنسوؤں سے تر تھا۔
منشاء منہ پر ہاتھ رکھے ایک کونے میں کھڑی تھی۔ ہمیشہ خوش ہونے والی روزینہ بھی آج اسکے غصے سے ڈری ہوئی تھی۔
آئمہ اور رائمہ سختی سے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے سہمے کھڑی تھیں اسنے آج تک سزائیں دی تھیں پر اس طرح غصے میں چلانا کبھی نہیں۔۔
” تم سے پوچھ رہا ہوں میں خنساء آخر اتنا ڈر کیوں ہے۔ کیوں ایبنارمل کی طرح بیہیو کرتی ہو ؟ کیا میں کوئی بھوت ہوں یا درندہ ؟”
خنساء کو ایسے ہی سرجھکائے روتے کانپتے دیکھ اسکا دماغ مکمل گھوم گیا۔
” میں تم سے پوچھ رہا ہوں ڈیم اٹ۔۔۔ لوگ پاگل سمجھنے لگے ہیں تمہیں کیوں ایسا بیہیو کررہی ہو؟ “
اب کےوہ اور زور سے چیخا اسکی چیخ میں آئمہ رائمہ کی بھی ہلکی سی چیخ شامل تھی اور وہ بھی رونے لگی تھیں۔
خنساء کے بازو چھوڑ کر اسنے غصے سے رخ موڑا ۔ اسکے چھوڑتے ہی خنساء نیچے گری لیکن اسکے گرنے سے پہلے منشاء نے اسے تھام لیا۔
” سس ۔۔سر ۔۔”
منشاء کے پریشانی سے پکارنے پر پلٹا تو خنساء کو بے ہوش
دیکھ غصہ پریشانی میں بدلا۔

Mere Hakim by Umaima Mukarram

Leave a Comment

Your email address will not be published.