Woh ek aisa shajar ho by Farhat Ishtiaq Download complete urdu novel 2023 html

Novelslounge is a platform for social media writers.we have started a journey for Social media writers to publish thier content.

“خبردار کوئی حرکت کی یا آواز نکالی تو جان سے مار دوں گا” اور وہ بےچاری تو پہلے ہی اتنی سہمی ہوئی تھی باقی کسر اس کے سفاک لہجے نے نکال دی اس سے تو خوف کے مارے پیچھے مڑ کر یہ تک نہ دیکھا گیا کہ اسے دھمکانے والا جلاد آخر ہے کون
وہ بدستور اس کے منہ پر ہاتھ رکھے اسے گھسیٹتا چند قدم پیچھے ہٹا اور پھر دور لا کر زور سے زمین پر پٹختا ہوا بولا
“بغیر کوئی آواز نکالے یہاں لیٹی رہو۔ پہلے ہی میرا سارا پلان چوپٹ کر دیا ہے اگر ذرا سی بھی آواز نکالی تو چھوڑوں گا نہیں”آئلہ بیچاری تو اتنی پتھریلی اور کھردری زمین پر پٹخے جانے پر اپنی بازو سے نکلتا خون ہی دیکھتی رہ گئی اور وہ دوبارہ آگے بڑھ گیا۔اس کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو نکلے
“یااللہ! یہ کس جرم کی سزہ ہے اتنے ویران اور خوفناک جنگل میں اتنے ہی خوفناک آدمی سے پالا پڑا ہے یااللہ مدد فرما۔”وہ خاموشی سے آنسو بہاتی اپنی چوٹیں سہلا رہی تھی جب وہ واپس آتا دکھائی دیا۔آئلہ نے دور سے اسے اپنی سمت آتے دیکھا تو نئے سرے سے سہم گئی اس کی خوفناک سی دھمکی اسے بری طرح خوفزدہ کر گئی۔
“تمہاری وجہ سے میری اتنے دنوں کی محنت ضائع ہوگئی اسٹوپڈ لڑکی میرا دل کر رہاہے تمہارا گلا دبا دوں تمہیں اتنی بے تکی سی چیخ مارنے کی کیا ضرورت تھی اگر اتنی ہی بے ڈرپوک ہو تو اس جنگل میں کیا کر رہی ہو۔جاکر اپنے گھر بیٹھو آرام سے۔:وہ اس کے اوپر کھڑا اسے گھورتا ہوا بول رہا تھا انداز ایسا تھا جیسے اسے کچا چبا جانا چاہتا ہو۔
“تین دن سے اس کی تاک میں تھا آج جا کر یہ سنہری موقع میرے ہاتھ آیا تھا پر تم پتا نہیں کیا سے نازل ہو گئیں نہ یو فضول طریقےسے چیختیں نہ وہ چونکتا صرف تمہاری وجہ سے میرا نشانہ چونک گیا اور گولی اس کی ٹانگ میں لگی۔”وہ بری طرح اس پر برس رہاتھا اور وہ خاموشی سے آنسو بہانے میں مصروف تھی۔
“پتا نہیں وہ جھاڑیوں میں کہاں چھپ گیا ہے زخمی شیر کو تو یوں چھوڑا بھی نہیں جاسکتا اب تو میری بجائے وہ میری تاک میں ہوگا آخر اسے اپنے ذخمی کیے جانے کا انتقام بھی تو لینا ہے۔”وہ خودکلامی کرنے میں مصروف تھا وہ کچھ سوچتے ہوئے اپنے آپ سے باتیں کر رہا تھا اور وہ رونا دھونا بھول کر بس زخمی شیر کے نام پر دہل گئی اس کی خوف سے پھیلی آنکھوں پر نظر پڑی تو طنزیہ مسکراہٹ چہرے پر سجا کر بولا۔

Woh ek aisa shajar ho by Farhat Ishtiaq

Leave a Comment

Your email address will not be published.